مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم "مرکز برائے اسیران اسٹڈی سینٹر” کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوجیوں نے جنوری میں مجموعی طور پر 23 خواتین کو حراست میں لیا۔ ان میں تین کم عمر بچیاں بھی شامل ہیں۔ حراست میں لی گئی تئیس خواتین میں سے دو اب بھی صہیونی جیلوں میں قید ہیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال کے شروع میں گرفتار کی گئی خواتین میں 20 سالہ فداء محمد یوسف نامی دوشیرہ بھی شامل ہے جو ابھی تک اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل ہے۔ حراست میں لیے جانے کے بعد اسے اب تک مسلسل عتصیون حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری خاتون لبنیٰ مصباح الخطیب کا تعلق الخلیل کے یطا قصبے سے ہے۔ اسے مسجد اقصیٰ کے قریب سے حراست میں لیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کے مندوب ریاض الاشقر نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں کے ہاتھوں گرفتار کی جانے والی خواتین میں "کیو پریس” نیوز ایجنسی کی نامہ نگار 23 سالہ جمان ابو عزفہ بھی شامل ہے۔ اسے حراست میں لیے جانے کے بعد القشلہ حراستی مرکز میں رکھا گیا تاہم بعد ازاں اسے رہا کردیا گیا تھا۔
جنوری میں گرفتار کی جانے والی دیگر خواتین میں 14 سال پانچ ماہ کی حور عابدین، 17 سالہ برات النتشہ اور انسام مغربی کم عمر اسیرات میں شامل ہیں۔ جبکہ دیگر خواتین میں 19سالہ امانی الطویل، 20 سالہ سالہ نور ابو سنینہ،28 سالہ سمیحہ شاہین، ھبہ الحسنی اور 26 سالہ صفوا سیاج، روایہ القواسمی، 34 سالہ سنا دویک،31 الہ عایدہ الدیسی،20 سالہ ملاک عطون،20 سالہ مروہ حمادہ اور 19 سالہ اخلاص رعود شامل ہیں۔ حراست میں لینے لیے جانے کے بعد انہیں صہیونی جیلروں کی جانب سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
