مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں وزارت تعلیم کے ڈائریکٹر انجینیئر محمد النجار نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ صہیونی فوج کی بمباری سے 142 سرکاری سکول متاثر ہوئے، ان میں سے 23 اسکول مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بنا دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے لیے فوری طور پر کم سے کم آٹھ ملین ڈالر کی رقم درکار ہے۔
انجینیر محمد النجار نے بتایا کہ اکاون روزہ صہیونی جارحیت کے نتیجے میں 119 اسکول جزوی طور پر متاثر ہوئے، ان کی تعمیرو مرمت کے لیے فوری طو پر چار ملین ڈالر کی رقم درکار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں مجموعی طور پر جامعات کو 10 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔ جامعات میں سب سے زیادہ تین یونیورسٹیاں اور کیمپس متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں جامعہ الازھر کی تین منزلہ ایک عمارت مکمل تباہ ہوگئی اور اس کے نقصان کا اندازہ تین ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ غزہ کی پٹی میں اسلامی یونیورسٹی پر بمباری سے 45 لاکھ ڈالر کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ جامعہ پولی ٹیک انسٹیٹوٹ میں ہونے والی تباہی کے بعد اس کی تعمیرو مرمت پر 25 لاکھ ڈالر خرچ ہوں گے۔
فلسطینی محکمہ تعلیم کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں اسکولوں اور جامعات کے شعبے کو پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں 25 ہزار طلباء و طالبات براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں کی عمارتوں کی مسماری کے نتیجے میں طلباء کا بوجھ بمباری میں محفوظ رہنے والے اداروں پر آن پڑا ہے۔
