اسرائیل نے ایک ہفتہ پیشتر مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس کے درمیان آمد و رفت کے راستے پر قائم ایک فوجی چوکی کے قیام کے بعد القدس کے کم سے کم اکیس شہریوں کوحراست میں لے لیا ہے۔
فلسطین میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم "ضمیرفاؤنڈیشن” کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے شمالی بیت المقدس میں ایک ہفتہ قبل فوجی چوکی قائم کی تھی جس کے بعد مغربی کنارے اور القدس کے شہریوں کےلیے باہم رابطے کا آخری براہ راست رابطہ بھی ختم کر دیا گیا تھا۔ اس ایک ہفتے کے دوران فوجی چوکی سے آر پارجانے والے بیس شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حراست میں لیے جانے والے اکیس شہروں میں نصف تعداد بچوں پر مشتمل ہے جو مغربی کنارے کے سے القدس یا القدس سے مغربی کنارے میں داخل ہونا چاہتے تھے۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے شعفاط فوجی چوکی کے قیام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے شہری آزادیوں کے خلاف اسرائیل کی جارحیت قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل منظم منصوبے کے تحت بیت المقدس کے قرب وجوار کے فلسطینی شہروں کے ساتھ رابطے ختم کرنے کے لیے اس طرح کی فوجی چوکیاں قائم کر رہا ہے۔
یہاں یہ امر واضح رہے کہ اسرائیل نے فلسطینی علاقوں اور مقبوضہ بیت المقدس کے درمیان رابطہ سڑکوں پر پہلے ہی ایک درجن کے قریب چوکیاں قائم کر رکھی ہیں جس کے باعث فلسطینیوں کا القدس میں داخلہ مشکل بنا دیا گیا ہے۔

