الاقصی فاؤنڈیشن برائے وقف و آثار قدیمہ کی تنظیم کے ڈائریکرٹر محمود ابو عطاء نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے مسجد اقصی کے اطراف ہزاروں مصنوعی یہودی قبروں
کی کھدائی کا ایک منصوبہ تشکیل دے دیا ہے۔ 20 کروڑ ڈالرز کی لاگت کے اس منصوبے پر اسرائیل کے مختلف محکمے عمل کرینگے۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ابو عطا کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت نے جن قبروں کو کھودنے کی منظوری دی ہے اس کے اعداد و شمار بتانا مشکل ہے تاہم تنظیم کو ملنے والی تفصیل کے مطابق گزشتہ سال کے دوران اسرائیل نے مسجد اقصی کے اطراف ساتھ ہزار مصنوعی قبریں کھودیں۔ اور اب مزید تین ہزار قبریں کھودنے کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔ یہ نئی قبریں وادی الربابہ، وادی سلوان، جبل زیتون کے علاقوں میں کھودی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ معلومات اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتین یاھو کے دفتر سے جاری رپورٹ سے لی گئی ہیں۔
الاقصی فاؤنڈیشن کے میڈیا کوآرڈینیٹر نے مزید بتایا کہ اسرائیل کا دعوی ہے کہ جبل زیتون میں ایک لاکھ یہودیوں کی قبریں موجود ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہےکہ ان میں سے اکثر قبریں محض وہمی ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل نے مسجد اقصی کے اطراف اور نواحی علاقوں میں قبریں کھودنے کے لیے بیس کروڈ ڈالر مختص کر دیے ہیں اور اس ضمن میں ایک وزارتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ فلسطینی انسانی حقوق کے سرگرم کارکن نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ مسجد اقصی کے اطراف کی اراضی کو کھودنے اور قبلہ اول کی شناخت مسخ کرنے کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ اسرائیل اس منصوبے کے تحت فلسطینی اراضی کو ہتھیانا چاہتا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

