مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس میں اسرائیلی "میئر” نیر برکات نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے مغرب میں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری تیز کرنے سے مشرقی بیت المقدس میں "غیرقانونی” مکانات کی تعمیر کے رحجان میں اضافہ ہوا ہے لیکن حکومت ان تمام مکانوں کو گرانے کی تیاری کررہی ہے جو فلسطینیوں نے اپنی مرضی سے بنا رکھے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں اسرائیلی میئرکا کہنا تھا کہ مغربی بیت المقدس کے اسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب تعلیم کو اگلے ایک سال تک مشرقی بیت المقدس میں نافذ العمل نہیں کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا نصاب اور نظام تعلیم کا منصوبہ لازمی یا جبری نہیں بلکہ اختیاری نوعیت کا ہے۔ ہم بیت المقدس کے کسی بھی اسکول کو اسرائیل کے وضع کردہ نصاب تعلیم کو لازمی پڑھانے پرپابندی نہیں کریں گے بلکہ اسکولوں کی انتظامیہ اور طلباءکو اپنے مرضی کا نصاب اختیار کرنے کی سہولت دیں گے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
