مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق 43 سالہ منیٰ قعدان کا مقدمہ اسرائیل کی ’’سالم‘‘ نامی ایک فوجی عدالت میں جاری ہے۔ اسے کل بدھ کے روز بھی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جج نے پراسیکیوٹر جنرل کی ہدایت پر اس کے مقدمہ کی سماعت 22 دسمبر تک ملتوی کردی۔ منٰی کے مقدمہ کی سماعت ملتوی کیے جانے کا یہ مسلسل 20 واقعہ ہے۔
درایں اثناء منٰی حسین قعدان کے اہل خانہ نے صہیونی عدالت کے طرز عمل کی شدید مذم کرتے ہوئے اسرائیلی پبلک پراسیکیوٹر کے’’ذہنی افلاس‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اہل خانہ نے عدالت کے باہر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ صہیونی عدالت منٰی کو فوری طور پر رہا کرے۔
اہل خانہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے پاس منٰی قعدان کے خلاف مقدمہ چلانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایک بار پھر ایک ماہ کے لیے جیل میں بند کردیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اسیرہ منٰی قعدان ایک معروف فلسطینی سماجی کارکن ہیں۔ انہیں ماضی میں متعدد مرتبہ صہیونی جیلوں میں قید کیا جاتا رہا ہے۔ آخری مرتبہ ان کی گرفتاری 13 نومبر 2012ء کو عمل میں لائی گئی تھی۔ اسیرہ کے ایک بھائی طارق قعدان اور منگیتر ابراہیم اغباریہ بھی اسرائیل جیلوں میں قید ہیں۔ اغباریہ کو عمر قید کی سزا کا سامنا ہے جس میں ابھی وہ صرف ساڑھے تین برس ہی پورے کر پایا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
