انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق حال ہی میں الرملہ جیل میں فلسطینی شہریوں نے اپنے اقارب سے ملاقات کی اور واپسی پر بتایا کہ پندرہ فلسطینیوں کی الرملہ جیل کی اسپتال میں داخل کیا گیا تاہم اسپتال میں داخل کیے جانے کے باوجود ان کی کسی قسم کی نگہداشت نہیں کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں وہ مسلسل موت وحیات کی کشمکش میں ہیں۔ بیمار قیدیوں میں سے بعض چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں اور انہیں وہیل چیئرز پر ایک سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جاتا ہے۔
قیدیوں کے اقارب کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں منتقل کیے گئے اسیروں کو سکون آور اور نیند کی گولیوں کے سوا کسی قسم کی دوا نہیں دی جاتی۔ صہیونی جیلروں کی مسلسل لاپرواہی کے نتیجے میں قیدیوں کی حالت نہایت تشویشناک ہے۔ اگر انہیں بروقت طبی امداد فراہم نہ کی گئی تو قیدیوں کی حالت زیادہ بگڑ سکتی ہے۔
الرملہ اسپتال میں قید فلسطینیوں کی حالت اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ وہ چوبیس میں سے بائیس گھنٹے نیند کی گولیاں کھا کر بے ہوش رہنے لگے ہیں۔
22 سالہ اسیر جعفر عوض کو ایک انوکھا مرض لاحق ہے اور ڈاکٹر آج تک اس کی بیماری کی تشخیص بھی نہیں کر سکے ہیں۔ اسپتال میں کوئی ماہر ڈاکٹر قیدیوں کی دیکھ بحال کرتا ہی نہیں ہے۔ انہیں صرف اسپتال کا دیگر عملہ سکون آور گولیاں کھلانے کے سوا کچھ نہیں کرتا۔
عوض ایک ماہ قبل کئی روز تک بے ہوش رہا جس کے بعد اسے ’’اساف ہروفیہ‘‘ اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ تاہم وہاں پر بھی اس کے مرض کی تشخیص نہیں کی گئی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
