فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی صدر محمود عباس کے زیر کمانڈ سیکیورٹی فورسز کی اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کےخلاف کریک ڈاؤن کی کارراوئیاں جاری ہیں۔
جمعہ کے روز مختلف علاقوں میں چھاپوں اور تلاشی کے دوران حماس کے کم سے چودہ ارکان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایک ڈاکٹرکو سیاسی بنیادوں پر ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق نابلس کے شمالی علاقے عصیرہ میں عباس ملیشیا کے کریک ڈاؤن کے دوران حماس کے کم سے کم آٹھ ارکان کوحراست میں لے لیا گیا۔ان میں شیخ ضرار حمادنہ، تیسر سوالمہ، سامر صوالحہ، محمد الجمل، اسامہ الشولی، محمود جرارعہ، سائد صوالحہ، سامی صوالحہ اور دیگر شامل ہیں۔ انہیں عباس ملیشیا پہلے بھی متعدد مرتبہ جیلوں میں حراست میں رکھ چکی ہے۔
اسی شہر میں ایک دوسری کارروائی کے دوران انسانی حقوق کے دو کارکن عبادہ دویکات اور جہاد دویکات کو حراست میں لے لیا گیا۔ خیال رہے کہ عبادہ دویکات کو صہیونی فوج کی جانب سے بھی حراست میں رکھا جا چکا ہے۔ ایک سال سے زائد عرصے تک اسے انتظامی حراست میں رکھے جانے کے دوران اسے تعلیم کے حصول سے بھی روک دیا گیا۔
درایں اثناء قلقیلیہ سے عباس ملشیا جمال داؤد اور شیخ محمد صالح عقانہ کو عباس ملیشیا نے ایک چھاپے کے دوران حراست میں لے لیا ہے۔ دونوں اسیر قلقیلیہ میں کلیہ الدعوۃ میں استاد ہیں۔ چندماہ پیشتر حماس سے تعلق کے الزام میں ان کی تنخواہ بند کر دی گئی تھی۔
الخلیل میں ایک چھاپے کےدوران عباس ملیشیا نے یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ڈاکٹر فراس احمد مجاہد کو ان کے گھر پر چھاپے کے دوران حراست میں لے لیا۔ قابض فوج نے ان کے گھر پر حملے کے بعد کئی قیمتی چیزیں بھی اٹھالیں جن میں ان کا لیپ ٹاپ کمپیوٹر اور دیگراشیاء شامل ہیں۔ خیال رہے کہ ڈاکٹر فراس مجاہد ایک سال قبل بھی عباس ملیشیا کی جیل میں چارماہ تک رہ چکے ہیں۔
ادھر فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیلی جیلوں میں چودہ ماہ تک جیل کاٹنے والے ڈاکٹر بلال محمد محیص کو نوکری سے فارغ کردیا۔ ڈاکٹر بلال محیص سلفیت کےایک سرکاری اسپتال میں الٹراساؤنڈ ڈیپارٹمنٹ کے ایک سینیئر ڈاکٹر تھے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

