عبرانی اخبار’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کی کارروائیاں جبل الخلیل اور معالیہ ادومیم یہودی کالونی کے قریب E1 سیکٹر میں کی گئیں۔ یہ مکانات غرب اردن میں یورپی یونین کے امدادی اداروں کی معاونت سے کی گئی تھیں۔
رپورٹ کےمطابق یہودی فوجیوں کی جانب سے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری اسرائیلی سیاست دانوں اور اراکین پارلیمنٹ کی تنقید کے بعد کی گئی کیونکہ صہیونی کنیسٹ کے ارکان کی جانب سے کہا گیاہے کہ فلسطینیوں نے ’’سیکٹر ای ون‘‘ میں حکومت کی اجازت کے بغیر مکانات تعمیر کیے تھے۔
اسرائیل میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم ’’بتسلیم‘‘ کے مطابق یورپی یونین کے تعاون سے بنائے گئے فلسطینی مکانات کی مسماری غیرقانونی ہے۔ اس کے نتیجے میں صہیونی ریاست کے خلاف عالمی سطح پر شدید رد عمل آ رہا ہے۔
