فلسطینی اسیران مطالعاتی مرکز نے اندوہناک حقیقت کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صہیونی عقوبت خانوں میں انسانیت سوز مظالم کے باعث 13 فلسطینی اسیران کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
جیل انتظامیہ کے دردناک سلوک نے کینسر کی مختلف اقسام میں مبتلا ان فلسطینیوں کو موت کے مزید قریب کر دیا ہے۔ اسیران مطالعاتی مرکز کے ترجمان رائد اشقر نے جمعہ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ یہ چودہ اسیر اپنے انتہائی خطرناک مرض اور اسرائیلی حکام کی مجرمانہ غفلت کی بدولت انتہائی خطرناک حالت میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی حکومت انہیں صرف اتنی سہولت فراہم کر رہی ہے جس سے ان کی زندگی برقرار رہے، اصل مرض کا کا علاج نہ ہونے کی وجہ سے ان مریضوں کا کینسر اپنی انتہائی خطرناک اسٹیج تک جا پہنچا ہے۔ ان فلسطینی اسیران کی موت اب یقینی ہوگئی ہے۔ اس موقع پر خدشہ یہ ہے کہ اسرائیلی انتظامیہ جیل میں اسیران کی موت سے بچنے کے لیے انہیں رہا کردے گی تاکہ یہ جیل سے باہر جا کر موت کا شکار ہوں۔
اس موقع پر فلسطینی اسیران امور کے مطالعاتی مرکز نے دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں، بالخصوص ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، ڈاکٹرز کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ان اسیران کے علاج کے لیے اپنی ٹیمیں فلسطینی بھیجیں تاکہ ان فلسطینی اسیران کی جانوں کو بچایا جا سکے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
