رپورٹ کے مطابق کلب برائے اسیران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل فلسطینی مائیں اپنے بچوں سے ملاقات سے بھی محروم رکھی جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ انہیں اپنے اہل وعیال کے ساتھ ٹیلیفون پربات تک کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 45 سالہ اسیرہ عبلہ العدم کا تعلق مغربی کنارے کے الخلیل شہر سے ہے۔ العدم 9 بچوں کی ماں ہیں۔ انہیں صہیونی فوج نے 20 دسمبر 2015 ء کو حراست میں لیا۔ گرفتاری سے قبل انہیں گولیاں ماری گئی تھیں۔ وہ شدید زخمی ہونے کے باوجود اسرائیلی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل ہیں۔اسرائیلی زندانوں میں پابند سلاسل دیگر فلسطینی ماؤں میں تمارا شریتح، ھیفاء ابو ارمیلہ، عیلہ العدم، امیرہ حمیدات، یاسمین شعبان، عالیہ العباسی، اسراء جعابیص، سامیہ مشاھرہ، خالدہ جرار[رکن قانون ساز کونسل]، حلوہ حمامرہ، امینہ صلاح، نسرین حسن اور سناء الحافی شامل ہیں۔
