
زامل سے ملاقات کرنے والے کونسل کے وکیل نے بتایا ہے کہ فلسطینی خاتون پر گرفتاری کے بعد مسلسل ظالمانہ تشدد کیا جا رہا ہے اور کسی کو اس سے ملاقات کی اجازت نہیں- وکیل نے غفران زامل سے ہونے والی گفتگو کے تناظر میں بتایا کہ بدترین تفتیش کا سلسلہ بغیر کسی وقفے کے دن رات جاری رہتا ہے اور گزشتہ 3 دن سے ایک منٹ کیلئے سونے نہیں دیا گیا- اس نے بتایا کہ تفتیش کے دوران نفسیاتی حربے‘ غلیظ دھمکیوں سمیت تمام اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں- 27 سالہ غفران زمیل کو 29 اگست 2009ء کو عین پناہ گزین کیمپ سے حراست میں لیکر پتیاہ تکواہ حراستی مرکز میں منتقل کیا گیا تھا اور متذکرہ بالا وکیل سے قبل کسی کو اس سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی-
