(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) قابض صہیونی فورسز نے فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس شہر میں ایک بارہ سالہ فلسطینی بچے کے سرمیں گولی ماردی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا ہے۔ بچے کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے تاہم اسپتال ذرائع کے مطابق اس کی حالت تشویشناک ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی درندوں نے 12 سالہ یزن خالد انعاجی کو شمال مشرقی بیت المقدس میں العیسویہ کے مقام پر اس وقت گولی ماری جب فلسطینی شہری اسرائیلی فوج کے کریک ڈاؤن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کررہے تھے۔ صہیونی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر براہ راست فائرنگ کی اور دھاتی گولیاں بھی برسائیں جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران ایک صہیونی فوجی نے بارہ سالہ فلسطینی بچے کو گولی ماری جو اس کے سرمیں جا لگی۔ زخمی بچے کو بیت المقدس میں المقاصد اسپتال منتقل کیا گیا تاہم اسپتال انتظامیہ نے شدید زخمی ہونے کے باعث بچے کو بیت المقدس میں ’ھداساعین کارم‘ اسپتال منتقل کردیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بچے کی حالت تشویشناک ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرمیں گولی لگنے سے بچے کے جسم سے بہت زیادہ خون بہہ چکا ہے جس کے نتیجے میں وہ مسلسل بے ہوش ہے۔
