مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ایک بیت لحم کے مقامی فلسطینی شہری محمد اسماعیل زعول نے بتایا کہ منگل کی شام صہیونی فوجیوں نے اس کے گھرپر چھاپہ مارا اور گھر کی جامہ تلاشی لی۔ اس دوران صہیونی فوجی اس کے گیارہ سالہ بچے عزالدین کو تلاش کرتے رہے۔ وہ گھر پرموجود نہ ہونے کی وجہ سے گرفتاری سے بچ گیا۔ بعد ازاں صہیونی فونیوں نے اس کی گرفتاری کے لیے اسے فوری طورپر خود کو حکام کے حوالے کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی جیلوں میں اس وقت 18 سال سے کم عمر کے 300 بچے پابند سلاسل ہیں۔ زیادہ تر کم عمر فلسطینیوں کو مجد، ھشارون اور عوفر جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ ان جیلوں کا کنٹرول اسرائیلی فوج کے پاس ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں کم عمرفلسطینیں کی بلا جواز گرفتاری کے خلاف اسرائیل سے سخت احتجاج بھی کرچکی ہیں۔ جیلوں میں ڈالے گئے کم عمرفلسطینیوں کو جنگی مجرموں کی طرح رکھا جاتا ہے اور ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔
پچھلے ایک سال کےدوران قابض صہیونی فوجیوں نے چھاپوں کے دوران کم سے کم 400 بچوں کو گرفتار کرکےجیلوں میں ڈالا۔ اوسطا ماہانہ 33 بچے گرفتار کیے جاتے رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
