(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس شہر میں قائم اسرائیل کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے زیرحراست 11 سالہ فلسطینی بچے علی علقم کی رہائی کے لیے اس کے وکلاء اور اہل خانہ کی جانب سے دی گئی درخواست مسترد کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق منگل کے روز اسرائیل کی مجسٹریٹ عدالت نے فلسطینی بچے جوکہ فلسطین ہی نہیں بلکہ دنیا کا کم سن اسیر ہے کی رہائی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے علقم کی رہائی کا مطالبہ مسترد کردیا۔رپورٹ میں بتایا ہے کہ مجسٹریٹ عدالت گیارہ سالہ فلسطینی بچے کو اس لیے حراست میں رکھنا چاہتی ہے تاکہ 12 سال کی عمرکو پہنچنے کے بعد اسے پولیس پوچھ گچھ کرسکے کیونکہ بارہ سال سے کم عمربچوں سے اسرائیلی پولیس کو قانون تفتیش کی اجازت نہیں ہے۔
یہاں یہ امر واضح رہے کہ علی علقم کو اس کے ایک دوسرے عزیز 14 سالہ معاویہ علم سمیت چند ماہ قبل بیت المقدس سے حراست میں لیا تھا۔ ان پر ایک یہودی آباد کار کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اسی الزام کے تحت علی علقم کوکچھ عرصہ جیل میں رکھنے کے بعد مقبوضہ فلسطین کے اسرائیل کے زیرانتظام این جی او کے مرکز میں منتقل کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فلاحی ادارے کے مرکز میں بھی اسے ایک قیدی کی طرح رکھا گیا ہے جہاں اس کے والدین اور دیگر اقارب کو ملاقات کی اجازت حاصل نہیں ہے۔
علی علم کو چند ماہ قبل گولیاں مار کر زخمی کیا گیا تھا جس کے بعد اسے زخمی حالت میں ھداساعین کارم اسپتال منتقل کیا گیا، وہیں سے اسے جیل بھیج دیا گیا تھا تاہم عالمی اداروں اور انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے تنقید کے بعد علی کو ایک سول ادارے کے مرکز میں منتقل کردیا گیا۔ علی علقم کے والدین اور اس کا وکیل اسے رہائی دینے کے لیے کوشاں ہیں مگراسرائیلی عدالت نے پراسیکیوٹر کی ہدایت پرعمل درآمد کرتے ہوئے اس کی رہائی کی درخواست مسترد کردی ہے۔
ادھر دوسرے فلسطینی بچے معاویہ علم کے وکیل یوسف حداد کا کہنا ہے کہ اس کے موکل کو اسرائیل کی ’’ھشارون‘‘ جیل سے ’’مجد‘‘ جیل منتقل کردیا گیا ہے۔
