(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے ایک عبرانی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کے باب العامود کے مقام پر گذشتہ چند ہفتوں کے دوران فلسطینیوں کی جانب سے یہودی فوجیوں پر 11 حملے کیے گئے، جس کے بعد صہیونی فوج کو سخت تشویش اور خوف لاحق ہوچکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے عبرانی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں باب العامود کو ’’دہشت گردی کا دروازہ‘‘ قرار دیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے قریب باب العامود کے مقام پر فلسطینیوں کی جانب سے 11 مزاحمتی حملے کیے گئے۔ ان میں دو بار فائرنگ اور نو مرتبہ چاقو سے حملے کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران چھ کارروئیاں کی گئیں جب کہ ایک ہفتے میں تین حملے کیے گئے جن میں ایک یہودی ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔ صہیونی فوج کی جانب سے نو فلسطینیوں کو شہید اور چھ کو حراست میں لے لیا گیا۔
حملہ آور فلسطینیوں میں پانچ کم عمر تھے جب کہ تین حملے خواتین اور بچیوں نے کیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر کے بعد سے اب تک مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 180 فلسطینی شہید اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔
