مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ’’انین القید‘‘ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپنی سزائوں کا ایک اور سال مکمل کرنے والے قیدیوں میں سے آٹھ کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے، ایک کا غزہ کی پٹی جبکہ ایک کا بیت المقدس سے بتایا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 31 سالہ راید سلیمان بخیت الصوفی کو 15 سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔ اسے صہیونی فوج نے سنہ 2005 ء میں حراست میں لیا گیا تھا۔ انچاس سالہ یاسین محمد ابو خضیر کا تعلق بیت المقدس سے ہے اور وہ اپنے قید کے 28 سال میں داخل ہوگیا ہے۔ اسے سنہ 1988 ء میں حراست میں لیا گیا تھا اور اب وہ اپنی اسیری کے آخری سال میں ہے۔
اسیر کمال عمر ابراہیم یحیٰ کا تعلق مغربی کنارے کے شہر جنین سے ہے۔ اسے 27 سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔ اسے سنہ 2006 ء میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اپنی اسیری کے اس کے آٹھ سال مکمل کرلیے ہیں۔ کل ہفتے کے روز مطابق ستائیس دسمبر کو وہ قید کے نویں برس میں داخل ہوا۔
اسیر نورالدین زیاد ابوالھیجا کو 19 سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔ اس نے گذشتہ روز اپنی اسیری کے 14 سال مکمل کیے۔ اسے سنہ 2001 ءکو حراست میں لیا گیا تھا۔
اسیر ابراہیم سعید غنیمات نے اپنی اسیری کے پانچویں سال کا سفر شروع کیا ہے۔ اسے عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔
اسیر 32 سالہ شریف الدین فتحی عبدالفتاح کو 23 سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔ اسے 2002 ء میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اس نے اپنی اسیری کے 12 سال مکمل کیے ہیں۔
اسیر خالد فواز حسین بزرہ کو 11 سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔ اسے سنہ 2004 ء میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اس کی اسیری کا اب دسواں سال شروع ہوا ہے۔ دیگر اسیران میں رافت عوض ابو سبیت نے اپنی اسیری کا آٹھوا سال، مجد عبداللہ عبدالرحیم علی اسیری کا چوتھا سال اور محمد فتحی موسیٰ راضی نے اسیر کا ساتواں سال شروع کیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
