اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینی شہریوں کی جانب سے یہودی آباد کاروں اور صہیونی فوجیوں پر سنگ باری کو قابل سزا جرم قرار دیتے ہوئے اس سنگ زنی کرنے والے افراد کو 10 سال قید کی سزا تجویز کی ہے۔ نئے مسودہ قانون پر دوسری اور تیسری رائے شماری آئندہ پیر کو ہو گی۔
اسرائیل کے پبلک ریڈیو کے مطابق پارلیمنٹ میں ایک مسودہ قانون چند ہفتے قبل پیش کیا گیا تھا جس میں یہودی آباد کاروں کی گاڑیوں، پیادہ افراد اور فوجیوں پر پتھرائو کرنے جو قابل سزا جرم قرار دینے کی سفارش کی گئی تھی۔ گذشتہ روزپارلیمنٹ کے اجلاس میں سنگ باری سے متعلق اس مخصوص دستوری مسودے پر پہلی رائے شماری کے بعد اسے منظور کیا گیا۔
صہیونی پولیس پرسنگ باری کرنے کو بھی قابل تعزیز جرم قرار دیتے ہوئے اس کی سزا کم سے کم پانچ سال قید اور جرم کی نوعیت کے مطابق اس کا جرمانہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
