اسیران امور کے تحقیق کار ریاض اشقر نے نے بتایا کہ پیر کے روز سابق اسیرہ اسماء یوسف بطران، چھبیس سالہ، کو دوبارہ الخلیل کے اذنا ٹاؤن میں ان کے گھر سے گرفتار کرلیا، اپنے معصوم بچوں کے سامنے اسماء یوسف کو ہاتھ اور آنکھیں باندھ کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام کی جانب منتقل کردیا گیا۔
ریاض اشقر نے بتایا کہ بطران کی گرفتاری کے ساتھ ہی صہیونی عقوبت خانوں میں فلسطینی اسیرات کی تعداد سات ہوگئی ہے۔ اس سے قبل چار ماہ زیر حراست رہنے والی اسلام بشیتی کو رہا کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ھشارون جیل میں لینا احمد صالح جربونی کو سن 48ء کے مقبوضہ فلسطین سے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں سترہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جس میں سے دس سال مکمل ہو چکے ہیں۔ مغربی کنارے کے شہر الخلیل سے تعلق رکھنے والی آلاء عیسی جعبہ، سلوی عبد العزیز حسان، افنان اسماعیل رمضان اور ھدیل طلال ابو ترکی بھی اسرائیل کی قید میں ہیں۔ اسیرہ نسیبہ عیسی جرادات کا تعلق اردن سے ہے، وہ جنین میں میں اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کرکے واپس جاتے ہوئے 20 جون 2012ء کو الکرامہ کراسنگ پر گرفتار کر لی گئی تھیں۔ ان کی سزا اس مہینے کے آخر میں ختم ہو جائے گی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
