• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

کیا ٹرمپ اپنا امن پروگرام فلسطین، اسرائیل پرمسلط کرنا چاہتے ہیں؟

بدھ 25-10-2017
in عالمی خبریں
0
0Pala9011
0
SHARES
0
VIEWS

مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے ایک کثیرالاشاعت اخبار ’یسرائیل ھیوم‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے لیے اپنا ایک امن پلان تیار کرلیا ہے جسے جلد ہی فلسطینی قیادت اور اسرائیل کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ امریکی صدر فریقین کو اپنا امن منصوبہ قبول کرنے اور اس میں بتائے نقشہ راہ پرمذاکرات کرنے پرمجبور کریں گے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ تنازع فلسطین اور اسرائیل کے حل کے لیے ایک ’جامع‘ منصوبہ تیار کررہے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ منصوبہ دسمبر 2017ء کے آخر تک فریقین کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ایک امریکی عہدیدار نے شناخت مخفی رکھتے ہوئے اس کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سابق صدر باراک اوباما کی طرح مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے طویل المیعاد مذاکرات کا تجربہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ کم سے کم وقت میں اپنا تیار کردہ امن پلان فریقین کے سامنے پیش کرکے ان سے منوانا چاہتے ہیں۔

اسرائیلی اخبار میں شائع رپورٹ صیہونی ریاست میں مروجہ خبروں کے برعکس ہے۔ گذشتہ ہفتے اسرائیلی حکومت کے عہدیداروں کے بیانات پر مبنی ایک رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ کے پلان میں یا تو سب کچھ ہوگا یا کچھ نہیں ہوگا۔

امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ فلسطین، اسرائیل میں مذاکرات کے لیے صدر ٹرمپ طویل مغز ماری کے قائل نہیں۔ تاہم وہ فریقین کو امن بات چیت کی براہ راست بحالی کا ایک موقع ضرور دیں گے۔

جب امریکی عہدیدار سے صدر ٹرمپ کے اس مجوزہ پلان کی بعض تفصیلات بارے پوچھا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ وہ توقع رکھتا ہے کہ صدر ٹرمپ کا پلان اسرائیل کے لیے زیادہ باعث تشویش ہوگا۔

امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ عین ممکن ہے کہ اسرائیل ٹرمپ کے امن پلان سے 50 فی صد تک راضی ہو۔ اسی طرح فلسطینی بھی اس پلان سے پچاس فی صد رضامندی ظاہر کرسکتے ہیں۔ مگردونوں فریقین اسے سو فی صد قبول نہیں کریں گے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی صدر اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی تجویز پیش کریں گے۔ اس کے بعد فریقین کے لیے بات چیت کو آگے بڑھانے کی سہولت اور موقع فراہم کریں گے۔ عرب ممال کی زیرنگرانی فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔

اگر تمام عرب ملکوں کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہوجاتے ہیں تو اس صورت میں محمود عباس کو ان عرب ممالک کے ساتھ صلاح مشورے کا موقع ملے گا اور وہ سب مل کر اسرائیل کے سامنے اپنا کوئی پلان پیش کرسکیں گے۔

Tags: americafacebookgamesgazagoogleisraelisraelijerusalemkillerlondonMatrixnebluspalestineparisramallahThirdIntifadatrumpUnitedForPalestinewashingtonwestbankyoutubezionistzombie
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.