اسرائیلی وزراء، ارکان پارلیمنٹ، سیاست دان اور Â شدت پسند صہیونیوں کے ساتھ ساتھ اب وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے بھی فلسطینی مزاحمت کاروں کو سزائے موت دینے کی وکالت شروع کردی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غرب اردن کے شہر رام اللہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی عمر العبد کے حملے میں حلیمیش صہیونی کالونی میں تین صہیونی آباد کاروں کی ہلاکت کے بعد صہیونی حلقوں میں زخمی حالت میں گرفتار العبد کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
عبرانی اخبار’یدیعوت احرونوت‘ نے اپنی ویب سائیٹ پر شائع ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیلی ملٹری پراسیکیوٹر جنرل اسیر العبد کو سزائے موت دیے جانے کی کسی بھی درخواست کو روکنے کی کوشش کرے گا کیونکہ اسرائیل کے موجودہ قانون میں مزاحمتی کارروائیوں میں ملوث فلسطینیوں کو طویل مدت تک قید کی سزا کی اجازت ہے، مگر سزائے موت نہیں۔ تاہم اگر پراسیکیوٹر جنرل اس کی اجازت دے تو ملٹری پراسیکیوٹر سزائے موت پرعمل درآمد کرسکتا ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ صہیونی آباد کاروں اور فوجیوں پر حملے کرنے والے فلسطینی ’دہشت گردوں‘ کو پھانسی کی سزائیں دی جائیں۔
نیتن یاھو نے کہا کہ سزائے موت کی بحالی کے لیے عدلیہ کا یکسو ہونا ضروری ہے۔ توقع ہے کہ عدالتیں سزائے موت کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے اس حوالے سے عملی اقدامات کریں گی۔
اسرائیلی اخبارات کے مطابق حکمراں جماعت ’لیکوڈ‘ کے کئی سرکردہ ارکان پارلیمان انسداد دہشت گردی قانون میں ترمیم کرتے ہوئے فلسطینی مزاحمت کاروں کی قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرانے کےلیے پرعزم ہیں۔
