مرکزی القدس ریلی سے خطاب میں علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ یوم القدس کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کرے، مظلوم فلسطینوں کی حمایت میں گھروں سے نکلنا ہر شخص کا شرعی فریضہ ہے، یوم القدس کے اجتماعات میں شیعہ سنی مشترکہ طور پر شریک ہوتے ہیں، جو ہمارے دشمن کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ازلی دشمن اور قبلہ اول پر قابض اسرائیل کی نابودی کیلئے امت مسلمہ کو متحد ہونے کی ضرورت ہے، قبلہ اول کی آزادی مسلمانوں پر قرض ہے، مسلکی نظریات کو ابھارا اور حقیقی اسلام کو دبایا جا رہا ہے، جو عالم اسلام کے زوال کا سب سے بڑا سبب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبلہ اول پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کے پیچھے امریکا، برطانیہ اور اس کے اتحادی ممالک کی سازشیں کارفرما ہیں، استعماری قوتیں ہماری وحدت کو پارہ پارہ کرکے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں مصروف ہیں، جس میں وہ ناکام ثابت ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کے محاصرہ اور مظلوم مسلمانوں کے آئے روز قتل عام پر اقوام متحدہ اور او آئی سی کی خاموشی اسرائیل کو تقویت پہنچا رہی ہے، مسلمان حکمرانوں کو چاہیئے کہ بیت المقدس کی آزادی کیلئے متحد ہو کر عملی جدوجہد کریں، خاموشی امت مسلمہ کی غیرت و حمیت پر بدنما داغ ہے۔
