واشنگٹن – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) امریکی حکومت کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ اسرائیل میں قائم امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے حوالے سے کوئی نیا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عبرانی ریڈیو کی رپورٹ میں وائٹ ہاؤس کے ایک سینیر عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تا حال امریکی انتظامیہ نے تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ القدس لے جانے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ذرائع ابلاغ میں آنے والی تمام افواہیں بے بنیاد ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے القدس منتقلی کا معاملہ مشکوک ہے۔ یہ سوال ابھی تک اپنی جگہ موجود ہےکہ آیا امریکی سفارت خانہ کب بیت المقدس منتقل کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ وائٹ ہاؤس کے ذرائع کی طرف سے یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کانگریس کی سیکیورٹی کمیٹی نے ایک اجلاس بلا کر امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی کے حوالے سے ارکان سے رائے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی سفارت خانہ القدس منتقل کرنے کا وعدہ کرچکے ہیں مگر رواں سال مئی میں دورہ اسرائیل کے دوران انہوں نےÂ سفارت خانے کی منتقلی کا فیصلہ چھ ماہ کے لیے مؤخر کردیا تھا۔
