مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکومت کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ لبنان میں ایران کی زیرنگرانی حزب اللہ ملیشیا کی جانب سے تیار کیے جانے والے چھوٹے اور پیچیدہ میزائلوں سے سخت خائف ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے روسی صدر ولادی میر پوتین سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ اس بات چیت کے دوران بھی نیتن یاھو نے شام میں ایران کے عسکری وجود اور لبنان کے پیچیدہ میزائلوں کا معاملہ اٹھایا۔عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین لبنان میں چھوٹے اور پیچیدہ بموں کی تیاری کو صیہونی ریاست کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
نیتن یاھو نے روسی صدر ولادی میر پوتین سے بات چیت میں ایران کے شام میں بڑھتے اثرو نفوذ پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
ادھر اسرائیل کے دورے پر آئے روس کے اعلیٰ اختیاراتی عسکری وفد صیہونی حکام سے جمعرات کے روز بھی ملاقاتیں جاری رکھیں۔
قبل ازیں وزیراعظم نیتن یاھو نے قومی سلامتی کے مشیر زئیف الکین اور ملٹری انٹیلی جنس چیف ہرٹزی ھالیفی سے پانچ گھنٹے طویل ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بھی لبنان میں پیچیدہ نوعیت کے میزائلوں کی تیاری کی روک تھام کے لیے متعدد تجاویز پر غور کیا گیا۔
درایں اثناء اسرائیلی وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین نے کہا ہے کہ ان ک ملک لبنان کو میزائلوں کی تیاری کے خانے میں تبدیل نہیں ہونے دے گا اور لبنانی ملیشیا کو میزائلوں کےحصول سے ہر قیمت پر روکا جائے گا۔
لائبرمین کا کہنا تھا کہ اسرائیل لبنان کے خلاف جنگ نہیں چاہتا مگر لبنانی مزاحمتی گروپوں کو خطرناک ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہوگا۔
