مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو ان دنوں کرپشن کیسز میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ کرپشن کیسز سے توجہ ہٹانے کے لیے کسی بھی محاذ پر جنگ چھیڑ سکتے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے ’شاباک‘ کے سابق چیف کارمی جیلئون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نیتن یاھو اس وقت سخت پریشان ہیں اور انہیں ان کیسز سے بچنے کے لیے کوئی راستہ نہیں مل رہا ہے۔ اس لیے وہ کوئی فیصلہ کن اقدام کرنے کے قابل نہیں۔ ان پر اس وقت چار کرپشن کیسز ہیں جن سے توجہ ہٹانے کے لیے وہ کوئی بھی قدم اٹھا سکتے ہیں۔جیلئون نے مزید کہا کہ وہ نیتن یاھو کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ سے متعلق بیان سے متفق تھے جب انہوں نے اولمرٹ سے کہا تھا کہ وہ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے ہیں اس لیے انہیں وزارت عظمیٰ کے عہدوں سے مستعفی ہوجانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آج وہ نیتن یاھو سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ لیکوڈ پارٹی کی قیادت کے ساتھ ساتھ وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دیں۔
خیال رہے کہ نیتن یاھو رشوت وصول کرنے، دھوکہ دہی اور مالی واخلاقی بد دیانتی کے کئی مقدمات کا سامنا کررہےہیں۔ پولیس نے ان کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی سفارش بھی کردی ہے۔
