مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اپنے ملٹری سیکرٹری الیعیزر ٹولڈانو کو فلسطینی مجاھدین کے ہاں جنگی قیدی بنائے گئے اسرائیلی فوجیوں کے امور کا عبوری رابطہ کار مقرر کیا ہے۔ باضابطہ رابطہ کار کے تقرر تک مسٹر ٹولڈانو قیدیوں کے امور کو ڈیل کریں گے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غزہ کی پٹی میں جنگی قیدی بنائے گئے فوجی اہلکار ’شاؤل آرون‘ کے اہل خانہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر وزیراعظم نے مغوی فوجیوں کی رہائی کے لیے باضابطہ رابطہ کار مقرر نہ کیا تو وہ اس حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دیں گے۔ سپریم کورٹ خود حکومت کو رابطہ کار مقرر کرنے کا حکم دے گی۔خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے قیدیوں کے امور کو ڈیل کرنے کی ذمہ داری ’لیئور لوٹان‘ کو دی گئی تھی مگر انہوں نے اگست 2017ء کو اس ذمہ داری سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اسرائیلی اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ لیو لوٹان کی طرف سے حکومت کو فلسطینی اسیران کی رہائی کے حوالے سے جو تجاویز دی گئی تھیں انہیں مسترد کردیا گیا تھا۔ یہ تجاویز مصری حکومت کی طرف سے انہیں دی گئی تھیں کیونکہ مصر فلسطینی مزاحمت کاروں اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کررہا تھا۔
فلسطینی تنظیموں نے مصری تجاویز سے اتفاق کیا تھا تاہم صہیونی حکومت نے ان تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں مصر کی تجاویز قبول نہیں۔
مصر نے سنہ 2011ء میں بھی اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ اور اسرائیل کے درمیان ایک معاہدہ کرایا تھا جس کے تحت مجاھدین نے گیلاد شالیت نامی صہیونی فوجی کی رہائی کے بدلے اسرائیل نے 1050 فلسطینی قیدی رہا کیے تھے۔
عبرانی ٹی وی 7 کے مطابق لوٹان نے فلسطینی تنظیموں کی فراہم کردہ تجاویز سے اتفاق کیا تھا تاہم حکومت نے ان تجاویز کو مسترد کردیا جس کے بعد انہں نے قیدیوں کے امور کی نگرانی سے علاحدگی اختیار کرلی تھی۔ اس کے بعد یہ ذمہ داری کسی کے پاس نہیں تھی۔ وزیراعظم نے مغوی فوجیوں کےاہل خانہ کے دباؤ کے بعد عبوری طور پر اپنے ملٹری سیکرٹری کو یہ ذمہ داری سونپی ہے۔
عبرانی ٹی وی کے مطابق شاؤل فیملی نے وزیراعظم اور حکومت کی جانب سے غزہ میں جنگی قیدی بنائے گئے سپاہیوں کی رہائی میں دلچسپی کا مظاہرہ نہ کرنے پر نیتن یاھو اور ان کی کابینہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے حکومتی رویے سے سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔
