اردن کی سرکاری اور نجی جامعات، اسکولوں اور کالجوں کے ہزاروں طلباء نے کل منگل کے روز ملک کے مختلف شہروں میں مسجد اقصیٰ اور فلسطینی تحریک مزاحمت کی حمایت و نصرت میں جلسے جلوس اور ریلیوں کا انعقاد کیا۔
رپورٹ کے مطابق اردنی طلباء کا سب سے بڑا مظاہرہ دارالحکومت عمان میں ہوا جس میں ہزاروں طلباء نےشرکت کی۔ مظاہرے میں شریک طلباء نے مسجد اقصیٰ اور فلسطینی تحریک مزاحمت کے حق نعروں پرمشتمل بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے۔ انہوں نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے نہتے فلسطینیوں کا قتل عام اور کریک ڈائون بند کرنے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے مسئلہ فلسطین بالخصوص فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی فوج کے طاقت کے استعمال اور مسجد اقصیٰ سمیت مقدس مقامات کی یہودی شرپسندوں کے ہاتھوں ہونے والی بے حرمتی پر عرب ممالک اور مسلم دنیا کی مجرمانہ خاموشی کی بھی شدید مذمت کی۔
مرکزی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے عالم اسلام سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی شہریوں کو صہیونی فوج کی درندگی سے نجات دلانے کے لیے فوری اور موثرا قدامات کریں۔
مظاہرین نے اردنی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ طے پائے وادی العربہ سمیت تمام سیاسی، اقتصادی اور فوجی معاہدے منسوخ کرتےہوئے فلسطینیوں کی تحریک آزادی کی حمایت کرے۔ مظاہرین نے اردن میں متعین اسرائیلی سفیر کوناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے اسے فوری طورپر ملک سے نکالنے کا بھی مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے فلسطینی شہریوں کی مقدسات کےدفاع کے لیے جاری تازہ "تحریک انتفاضہ القدس” کی بھرپور حمایت کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے یہودی شرپسندوں کے فلسطینیوں پر حملوں کی شدید مذمت کی۔
طلباء نے اردن کی نجی اور سرکاری جامعات کی انتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ صہیونی ریاست کے ساتھ طے پائے تعلیمی تعاون کے سمجھوتے منسوخ کریں تاکہ دشمن ریاست کو واضح پیغام پہنچے کہ اردنی عوام صہیونی دہشت گردی کے رد عمل میں فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
