برلن – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) جرمنی اور فرانس نے فلسطین میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقوں میں اسرائیل کی نئی صیہونی آباد کاری شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جرمن وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں صیہونی بستیوں کی تعمیروتوسیع عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور خطے میں قیام امن کی مساعی میں رکاوٹ ہے۔جرمن وزارت خارجہ کی ترجمان نے ایک پریس بیان میں کہا کہ رواں ہفتے اسرائیلی حکومت نے غرب اردن کے علاقوں میں تین ہزار نئے مکانات تعمیر کرنے کی منظوری دی ہے۔ غرب اردن میں صیہونی آباد کاری عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، جرمنی اسے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
فلسطینی مقبوضہ عرب علاقوں میں صیہونی آباد کاری کی توسیع مشرق وسطیٰ میں دیر پا قیام امن کے لیے جاری مساعی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ چار جون 1967ء کے بعد قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی ریاست کی سرگرمیوں کو کسی صورت میں قابل قبول نہیں کیا جا سکتا۔ صیہونی ریاست کو فلسطین میں صیہونی آباد کاری کا عمل بند کرنا ہو گا۔
ادھر فرانسیسی حکومت نے بھی غرب اردن کے علاقوں میں غیرقانونی صیہونی آباد کاری کے نئے منصوبوں کی منظوری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے صیہونی توسیع پسندی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
فرانسیسی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطین کے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے شہروں میں صیہونی آباد کاری کے اسرائیلی منصوبے سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔
خیال رہے کہ دو روز قبل اسرائیلی حکومت نے الخلیل شہر میں سنہ 2002 کے بعد پہلی بار 31 مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے جب کہ رام اللہ میں بیت ایل کالونی میں 300 گھروںÂ کی تعمیر کی منظوری دی گئی تھی۔
