فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ترکی کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ استنبول فلسطینی تنظیموں کے درمیان مفاہمت کے لیے حماس کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ حماس کی جانب سے غزہ میں انتظامی کمیٹی تحلیل کرنا فلسطینیوں میں مفاہمت کی طرف اہم پیش رفت ہے۔ ترکی تمام فلسطینی اسٹیک ہولڈرز پر زور دیتا ہے کہ وہ مفاہمت اور مصالحت کے موجودہ موقعے سے فائدہ اٹھائیں اور باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھائی چارے کی عملی مثال قائم کریں۔
ترکی نے حماس کی انتظامی کمیٹی کو تحلیل کیے جانے کو قومی مفاہمت کے حوالے سے اہم ترین، خطے میں استحکام کا ذریعہ اور دو ریاستی حل کی طرف اہم پیش رفت قرار دیا۔
ترک وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ استنبول حکومت فلسطینی تنظیموں کے درمیان مفاہمت کے لیے کوشاں رہی ہے۔ کسی بھی چینل سے فلسطینی تنظیموں میں طے پائے مفاہمتی معاہدے کو ترکی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
خیال رہے کہ مصری حکومت کی طویل کوششوں اور حماس کے ساتھ مذاکرات کے بعد قاہرہ نے فلسطینی جماعتوں کو ایک بار پھر مصالحت کے لیے اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں حماس نے پہل کرتے ہوئے غزہ کی پٹی میں قائم اپنی عبوری انتظامی کمیٹی ختم کرتے ہوئے قومی حکومت کے سربراہ رامی الحمد اللہ کو انتظامی امور سنبھالنے کی دعوت دی ہے۔
