فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق لبنان میں سیکڑوں لوگ فلسطین کے ساتھ ملنے والی سرحد مارون الراس کے قریب جمع ہوئے اور انہوں نے مسجد الاقصی اور فلسطینی عوام کے حمایت کا اعلان کیا۔
شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب واقع جرمانا کیمپ میں بھی سیکڑوں لوگوں نے مظاہرے کرکے مسجد الاقصی کے خلاف صیہونی حکومت کے اقدامات اور عرب ملکوں کی خاموشی کی مذمت کی۔
اردن کے دارالحکومت امان اور دیگر شہروں میں ہزاروں لوگوں نے فلسطینی کاز اور مسجد الاقصی کے دفاع میں مظاہرہ کیا اور عرب اور اسلامی ملکوں سے اپیل کی کہ وہ مسجد الاقصی پر اسرائیلی حملوں کے خلاف ٹھوس اور متحدہ موقف اختیار کریں۔
عراق کے عوام نے بھی نے جمعے کے روز مظاہرے کرکے مسجد الاقصی کے خلاف اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور فلسطینی کاز کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔
ترکی میں بھی ہزاروں لوگوں نے مسجدالاقصی کی حمایت میں ملک گیر سطح پر مظاہرے کیے جس کے دوران امریکہ مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے گونج رہے تھے۔ اس سلسلے کا سب سے بڑا مظاہرہ انقرہ میں کیا گیا جس میں شریک لوگوں نے ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع کرنے اور اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کامطالبہ کیا۔ ترکی کے شہروں استنبول، انطالیہ، دیار بکر اور آدانا میں ایسے ہی مظاہرے کیے گئے جن میں ہزاروں ترک شہری شریک تھے۔
قابل ذکر ہے کہ مسجد الاقصی اور بیت المقدس شہر کو ان دنوں اسرائیلی فوجیوں اور صیہونی آباد کاروں کے حملوں اور مخاصمانہ اقدامات کا سامنا ہے جس کے خلاف فلسطینی عوام سخت مزاحمت کر رہے ہیں۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی فوجیوں کے وحشیانہ حملوں میں کم سے کم سات فلسطینی شہید اور چار سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔
