فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جدہ میں قائم ’او آئی سی‘ کے جنرل سیکرٹریٹ سے تنظیم کے سیکرٹری جنرل یوسف بن حمد العثیمین نے ایک بیان میں کہا ہے مسجد اقصیٰ کی بندش کوئی معمولی واقعہ نہیں جسے نظرانداز کردیا جائے۔ قبلہ اول میں نماز اور اذان پر پابندی کے پیچھے اسرائیل کی مذموم سازشیں کار فرما ہیں۔ اسرائیلی ریاست ایک منصوبے کے تحت حرم قدسی پر اپنے پنجے مضبوط کرنا چاہتی ہے۔
او آئی سی سربراہ نے عالم اسلام اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطین میں تمام اسلامی اور مسیحی مقدسات بالخصوص مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لیے موثر لائحہ عمل اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اسرائیل کو فلسطینی قوم کے خلاف جاری نسل پرستانہ اقدامات سے سختی سے روکے۔
خیال رہے کہ جمعہ کے روز شمالی فلسطین کے شہر ام الفحم سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے تین فلسطینیوں نے فدائی حملہ کرکے مسجد اقصیٰ میں دو صہیونی فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا۔ صہیونی فوج نے تینوں فلسطینیوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا اور اس کے بعد قبلہ اول میں اذان اور نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
قبلہ اوّل کی بندش کے خلاف عالم اسلام کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
