فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ترک حکومت کے ترجمان نعمان قورتولموش نے انقرہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ مسجد اقصیٰ (قبلہ اوّل) میں اذان اور نماز کی ادائیگی پر پابندی انسانیت کے خلاف سنگین جرم اور مذہبی آزادی پرحملہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنہ 1967ء کے بعد جب سے اسرائیل نے القدس پرقبضہ کیا ہے یہ پہلا موقع ہے جب قبلہ اوّل میں اذان دینے اور نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
قبل ازیں ترک وزیراعظم نے بن علی یلدرم اور صدر طیب ایردوآن بھی مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی پابندیوں کی شدید مذمت کرچکے ہیں۔ وزیراعظم یلدرم نے قبلہ اوّل کو فلسطینی نمازیوں کے لیے بند کیے جانے کو ناقابل قبول، عالمی قوانین اور مذہبی آزادیوں کے منافی اور انتہائی خطرناک اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قبلہ اوّل میں فلسطینی نمازیوں کے داخلے پر مزید پابندی سے حالات زیادہ بگڑ سکتے ہیں۔ توقع ہے اسرائیل حالات کو زیادہ خراب کرنے کی حماقت نہیں کرے گا۔
خیال رہے کہ جمعہ کو سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی شہر ام الفحم سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے تین نوجوانوں نے فدائی حملہ کرکے دو اسرائیلی فوجیوں کو جہنم واصل کردیا تھا۔
صہیونی فوج نے مسجد اقصیٰ میں Â گھس کران تینوں فلسطینی نوجوانوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ اس واقعے کے بعد اسرائیل نے مسجد اقصیٰ فلسطینی نمازیوں پر بند کردی تھی۔
