بیروت (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت Â قرار دیے جانے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنے کے لیے کل بدھ کو اسلامی سربراہی کانفرنس بلائی ہے۔ اس کانفرنس میں ترک صدر نے تمام مسلمان ممالک کے سربراہان کو ترکی مدعو کیا ہے۔ ان میں لبنان کے عیسائی صدر میشل عون بھی شامل ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق لبنانی وزیر برائے صدارتی امور بیار رفول نے میڈیا کو بتایا کہ ترک صدر کی طرف سے صدر میشل عون کو مدعو کرنے کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ القدس صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ عیسائی برادری کا بھی اہم ترین مسئلہ ہے، القدس کے حوالے سے خطے کے عیسائیوں اور مسلمانوں کے نقطہ نظر میں کوئی فرق نہیں۔لبنانی وزیر کا کہنا تھا کہ صدر میشل عون ترک صدر کی دعوت پر القدس کے حوالے سے ہنگامی عالمی سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں Â بیار رفول کا کہنا تھا کہ ہم مشرق کے باشندے ہیں اور ہمارے علاقائی مسائل ایک ہی جیسے ہیں۔ القدس کے حوالے سے ہمارا وہی موقف ہے جو مسلمان بھائیوں کا ہے۔ ہم کسی کو القدس کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
لبنانی وزیر نے خطے کی مسلمان اور عیسائی برادری کو آپس میں متحد ہو کر القدس سمیت تمام علاقائی حل طلب مسائل کے حل پر زور دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عرب عیسائی ہونے کے ناطے ہماری ترجیحات ایک ہیں۔ عربوں، مسلمانوں اور عیسائی برادری کو اپنی صفوں میں اتحاد پید کرنا ہوگا۔
