برسلز، برلن، میلانو – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) مسجد اقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں کے داخلے پر اسرائیلی فوج کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں اور مقدس مقام کی مسلسل بے حرمتی کے خلاف احتجاج کا دائرہ یورپی ملکوں تک پھیل گیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ’یورپین فاؤنڈیشن برائے القدس‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ کل جمعہ کو نصرت الاقصیٰ ریلیوں کا انعقاد نہ صرف فلسطین کے اندر کیا گیا بلکہ یورپی ملکوں کے 20 شہروں میں بھی دفاع الاقصیٰ ریلیاں نکالی گئیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی بندش اور اسرائیلی فوج کے ہاتھوں اس کی مسلسل بے حرمتی کے خلاف نہ صرف فلسطینی شہری سراپا احتجاج ہیں بلکہ براعظم یورپ میں بھی بڑے پیمانے پر اسرائیلی پابندیوں کی مخالفت میں آوازیں بلند کی جا رہی ہیں۔
کل جمعہ کو جرمن، پولینڈ،بیلجیم اور کئی دوسرے یورپی ملکوں میں مسجد اقصیٰ کی حمایت میں مظاہرے، ریلیاں، جلسے جلوس منعقد کیے گئے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی مسجد اقصیٰ کی حمایت میں مہمات جاری ہیں جن میں سماجی کارکنان بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ جمعہ کو دفاع مسجد اقصیٰ اور یوم الغضب کی مناسبت سے سویڈن، جرمنی، ڈنمارک، ہالینڈ، آسٹریا، برطانیہ، اٹلی، سوئٹرزلینڈ، آئرلیںڈ اور اسپین میں بڑے پیمانے پر مظاہرے اور ریلیاں منعقد کی گئیں جن میں بڑی تعداد میں فلسطینی تارکین وطن، مسلمانوں اور دیگر سماجی کارکنان نے شرکت کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی ملکوں میں ’ہیش ٹیگ القدس فلسطین کا دارالحکومت‘ کے عنوان سے ‘ہیش ٹیگ 100 سال، ہم فتح مند ہوں گے اور ’الیکٹرانک گیٹ ناقابل قبول ہیش ٹیگ‘ کے ٹرینڈ ٹوئٹرپر بڑے پیمانے پر مقبول ہو رہے ہیں۔
