فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ابو زھرہ نے کہا کہ اسرائیلی پولیس کے ساتھ صیہونی ریاست کے محکمہ سیاحت و قدرتی ماحول کے عہدیدار بھی اس منصوبے پر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے باب الرحمۃ قبرستان کے قریب 200 میٹر کی ایک لمبی پٹی تلفریک کے اڈوں کے قیام کے لیے مختص کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ ہوائی ریل کار کے ذریعے اسرائیل القدس میں جبل صیہون کے مرکزی اسٹیشن کو دیوار براق تک ایک ریل کار کے ذریعے صیہونیوں کو رسائی دینا چاہتا ہے۔ ہوائی ریل کار سے ایک گھنٹے میں ایک سمت میں تین ہزار فراد کو منتقل کیا جاسکے گا۔ اس کے علاوہ جبل صیہون سے مسجد اقصیٰ کی دیوار براق تک کا سفرسمٹ کر صرف پانچ منٹ پر آجائے گا۔
مستقبل میں اس منصوبے کو مزید وسعت دی جائے گی۔ نقشے کے مطابق ریل کار جبل زیتون، باب الاسباط، پرانے القدس شہر سے 1400 میٹر کی لمبائی سے گذرے گا۔ اس دوران مجموعی طور پر 40 بوگیاں بنائی جائیں گی اور ہربوگی میں دس افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی۔ یہ ہوائی ریل کار بجلی پر چلے گی۔ اکیس کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ریل کار کے چار اہم اسٹیشن بنائے جائیں گے پرانے بیت المقدس میں ریلوے اسٹشن سے شاہراہ ھمفکید، جبل صیہون، دیوار براق اور وزٹرز سینٹر’کیدیم‘ سے میں اس کے اسٹیشن قائم کیے جائیں گے۔
فلسطین کی سپریم افتاء کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بیت المقدس میں اسرائیلی حکومت کےبیت المقدس میں جاری ’ریل کار‘ منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے القدس کو یہودیانے کی سازشوں کا حصہ قراردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی سپریم افتاء کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس میں اسرائیلی وزات سیاحت اور اسرائیلی بلدیہ کے اشتراک سے شروع کردہ منصوبہ القدس کو یہودیانے کے اسرائیلی سازشوں کا تسلسل ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت نے بیت المقدس میں ’التلفریک‘ یعنی ریل کار کا منصوبہ دیوار براق کے احاطے سے جبل صہییون میں اس کے مرکزی اسٹیشن تک بنایا جا رہا ہے۔
