مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) کی خارجہ و سیکیورٹی کمیٹی نے فوج کی جنگی کی تیاریوں سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے جس کے بعد بعض ارکان کنیسٹ نے اس پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فوج اور سیکیورٹی ادارے مستقبل قریب اور بعید میں کسی بھی محاذ پر جنگ کے لیے تیار ہیں۔
عبرانی اخبار ’یسرائیل ھیوم‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’فیوچر پارٹی‘ کے رکن عوفر شیلح کی زیر نگرانی قائم کمیٹی نے گذشتہ دو سال کے دوران فوج کی جنگی تیاریوں کے حوالے سے 30 اجلاس منعقد کیے اور ان کی صدارت کی ہے۔رپورٹ میں فوج اور سیاسی قیادت کی تزویراتی حکمت عملی، جنگ کی تیاریوں کے حوالے سے سیاسی قیادت کے بیانات، فوج کی حکمت عملی اور فوجی یونٹنوں کی اس حوالے سے چھان پھٹک کو الگ الگ انداز میں دیکھا گیا ہے۔
54 صفحات کو محیط تفصیلی رپورٹ میں بعض ارکان نے اس پر دستخط نہیں کیے۔ لیکوڈ پارٹی کے یوآب کیش اور جیوش ہوم کے موطی یوگیو نے اعتراض کیا ہے کہ فوج کی جنگی تیاروں اور انتظامات کے حوالے سے رپورٹ کا اجرا حساس معاملات کو افشاء کرنے کے مترادف ہے۔
رکن پارلیمنٹ کیش کا کہنا ہے کہ فوج کی جنگی تیاریوں جیسے حساس معاملے کو صیغہ راز میں رکھا جانا چاہیے۔ اس کے افشاء سے ریاست کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے نیز اپوزیشن جماعتیں اسے حکومت کے خلاف ایک نئے ایشو کے طور پر بھی اچھال سکتی ہیں۔
