• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

’فلسطینی مزاحمت کاروں کی سزائے موت‘، اسرائیلی کنیسٹ میں آج بحث

اتوار 20-03-2016
in عالمی خبریں
0
0Pala0714
0
SHARES
0
VIEWS

(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی کنیسٹ [پارلیمنٹ] آج اتوار کے روز ہونے والے اجلاس میں اسرائیلی تنصیبات پرحملوں میں ملوث فلسطینیوں کو سزائے موت دیے جانے سے متعلق ایک بل پربحث کرے گی۔ یہ مجوزہ قانون اسرائیلی کنیسٹ میں سابق وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبرمین کی جماعت ’’اسرائیل بیتنا‘‘ کی جانب سے جمع کرایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں اس مجوزہ آئینی بل کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی تحریک مزاحمت کو ’’دہشت گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی فوج، پولیس، یہودی آباد کاروں اور عام تنصیبات پرحملے کرنے والے فلسطینیوں کے لیے طویل قید کے ساتھ ساتھ سزائے موت بھی منظور کرے تاکہ فلسطینیوں کو تحریک مزاحمت کی پاداش میں پھانسی کی سزائیں بھی دی جاسکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک اس قانون کی حمایت میں حکمراں جماعت ’’لیکوڈ‘‘ اس کی حامی ’’اسرائیل بیتنا‘‘ اور ’’جیوش ہوم‘‘ جیسی سرکردہ جماعتوں کے ارکان نے حمایت کی ہے اور بل کی منظوری کے لیے اس پردستخط بھی کردیے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی گذشتہ وزارت عظمیٰ کی مدت کے دوران بھی اسی نوعیت کے ایک بل پربحث کی گئی تھی تاہم بعد ازاں اس بل کی منظوری نہیں دی جاسکی تھی۔

مجوزہ آئینی بل میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے اسرائیلی تنصیبات پرحملوں سے متعلق تمام کیسز کواسرائیل کی فوج داری عدالتوں میں دائر کیا جائے اور فوجی عدالتوں ہی کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں کے مطابق فلسطینی مزاحمت کاروں کو سزائیں دی جائیں۔

مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کو پھانسی کی سزائیں دینے کے لیے تمام ججوں کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ کیس کی سماعت کرنے والے ججوں کی اکثریت اگر کسی فلسطینی کو پھانسی کی سزا تجویز کرے توحکومت اور انتظامیہ کو اس سزا پرعمل درآمد کی پابندی کرنا چاہیے۔

مسودہ قانون میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ اگر کوئی عدالت کسی فلسطینی مزاحمت کار کو موت کی سزا سنادے تو کسی دوسری عدالت کو اس سزا کو چیلنج کرنے کا اختیار نہ ہوبلکہ اس سزا کو حتمی سمجھا جائے۔

Tags: israelipalestineThirdIntifadaUnitedForPalestine
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.