(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں نہتے نوجوانوں کے حملوں سے صہیونی فوج اس قدر خوف زدہ ہے کہ یا تو بغیر کسی تحقیق کے کسی بھی فلسطینی شہری کو گولی ماردی جاتی ہے اور اگر گولیاں مار کر فلسطینیوں کوشہید نہ کیا جاسکے تو بزدل فوجی اسلحہ چھوڑ کر فرارہوجاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے حال ہی میں فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں پیش آئے ایک واقعےکی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں اعتراف کیا گیاہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے چاقو کے حملوں سے خود زدہ فوجی اسلحہ اور اپنی حفاظتی بلٹ پروف جیکٹیں بھی چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کے روز نابلس میں براخا یہودی کالونی کے قریب دو یہودی فوجیوں پر فلسطینیوں کی جانب سے چاقو سے حملہ کیا گیا تو وہ اسلحہ وہیں چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق فوج نے اسلحہ اور اپنا دیگر سامان چھوڑ کر فرار ہونے والے فوجیوں سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے۔ دوران تفتیش فوجیوں نے بتایا کہ انہیں اپنی جانوں کو خطرہ لاحق تھا اس لیے جانیں بچانے کے لیے وہ اسلحہ چھوڑ کر فرار ہونے پرمجبور ہوئے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدھ کے روز نابلس میں فلسطینی شہریوں نے گھات لگا کر یہودی فوجیوں پر اس وقت حملہ کردیا تھا کہ وہ اپنا اسلحہ زمین پر رکھ کربیٹھے ہوئے تھے۔ اس دوران فلسطینیوں کے حملے میں دو اسرائیلی فوجی اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔ فلسطینیوں کے حملے وقت M-16 بندوق ، ایک راکٹ لانچر اور متعدد بلٹ پروف جیکٹیں چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔
