مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کےعبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں فلسطینی اتھارٹی کو غیر معمولی سیکیورٹی امداد فراہم کی گئی۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عبرانی نیوز ویب پورٹل ’واللا‘ کے مرکزی صفحے پر شائع ایک رپورٹ کا ترجمہ ’عرب 21‘ ویب سائیٹ کی جانب سے کیا گیا۔ اس رپورٹ میں فلسطینی اتھارٹی کے لیے امریکا کی غیرمعمولی سیکیورٹی امداد کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکا کی انتظامیہ اور عدلیہ کے اداروں کے درمیان سنہ 2008ء میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت صدر کو فلسطینی اتھارٹی کو دی گئی فوجی امداد کے امریکی شرائط کے تحت استعمال کی ہرچھ ماہ بعد رپورٹ دینے کا پابند بنایا گیا تھا۔ صدر اس بات کے پابند تھے کہ وہ جنرل کیتھ ڈایٹون پلان کے تحت عدلیہ اور انتظامیہ کو فلسطینی سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی اور ان کے حوالے سے طے شدہ شرائط پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
رپورٹ کے مطابق غرب اردن میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد امریکی حکومت کو یہ خدشہ لاحق تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کو دیا گیا اسلحہ صیہونی آباد کاروں کے خلاف استعمال ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کے ایک اعلیٰ اختیاراتی تربیت اہلکاروں پر مشتمل ٹیم نے فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت سیکیورٹی اداروں کی مددÂ کی۔ ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے، قانون کی عمل داری کا پابند بنانے کے مختلف طریقوں پر انہیں عسکری تربیت دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی حکومت نے معاہدہ کیا تھا کہ وہ ہرسال 15 فلسطینی افسران کو امریکا میں عسکری تربیت دیے جانے کی اجازت دی جائے گی۔
دستاویزی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2008ء میں امریکی فوج کی زیرنگرانی فلسطینی جنرل انٹیلی جنس، صدارتی گارڈ اور پولیس کے 18 ہزار اہلکاروں کو اردن میں تربیت دی گئی۔
اسی عرصے میں امریکی وزارت خارجہ نے فلسطینی اتھارٹی کو دفاعی تربیت کی مد میں 200 بار مالی گرانٹ دی جب کہ سول سیکیورٹی ، جرائم کی تشخیص، عدالتی سسٹم کو بہتر بنانے، فوج داری آلات، سائبر سیکیورٹی اور دیگر شعبوں میں 13 مختلف گرانٹس دی گئیں۔
اسرائیلی تجزیہ نگار امیر ارون کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی ادراروں کو تربیت کی فراہمی سے قبل اس بات کو یقینی بنایا جاتا تھا مزاحمتی سوچ اور فکر رکھنے والے کسی شخص کو اداروں شامل نہ کیا جائے۔
