• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

فلسطین کی قیمت پرافریقی ملکوں سے اتحاد کی صہیونی کوشش!

ہفتہ 12-08-2017
in عالمی خبریں
0
0Pala8226
0
SHARES
0
VIEWS

غزہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) قرون افریقا کے بعض ممالک اور اسرائیل کی سربراہ کانفرنس کا انعقاد آئندہ اکتوبر میں ہونے جا رہا ہے۔ یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہےجب عرب اور مسلمان ملکوں کے افریقا میں اثرات کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اسرائیل مسلم اور عرب دنیا کی افریقا میں اثر پذیری میں کمی کا نتیجہ ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق افریقی شہر ’توگو‘ میں ہونے والی یہ اسرائیل افریقا سربراہ کانفرنس خطے میں صہیونی ریاست کے اثرو نفوذ میں اضافے اور معاشی دراندازی کا ایک انتہائی خطرناک اقدام ہے، جو عالم اسلام اور عرب دنیا کی کم زوری کی قیمت پر اٹھایا جا رہا ہے۔

صہیونی ریاست اور افریقی قیادت کے درمیان 23 سے 27 اکتوبر 2017ء تک ہونے والی یہ کانفرنس اپنی نوعیت کی پہلی پیش رفت ہے۔ اس کانفرنس کا  مقصد اسرائیل اور افریقی ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعاون اور بھائی چارے کو فروغ دینا۔ سیکیورٹی اور دفاعی دفاعی کے نئے معاہدے کرنا اور افریقی ملکوں میں اسرائیلی اسلحے کے انبار لگانا شامل ہے۔

افریقی ملکوں اور اسرائیل کے درمیان منعقد ہونے والی یہ کانفرنس بہ ظاہر سیکیورٹی اور ’انسداد دہشت گردی‘ کے موضوعات کو محیط ہوگی تاہم اس کانفرنس میں زراعت، توانائی، آبی وسائل ،صحت، سماجی بہبود کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی اس کے اہم موضوعات ہوں گے۔

کانفرنس کے اہم اسباب

ماہرین نے افریقی ملکوں اور صہیونی ریاست کے درمیان اکتوبر کے آخری ہفتے میں ہونے والی سربراہ کانفرنس کے سات اہم اسباب و محرکات بیان کیے ہیں۔

افریقی ملکوں میں تجارتی اور معاشی مواقع کو دیکھ کر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی رال کا ٹپکنا کوئی حیرت کی بات نہیں۔ نیتن یاھو نے مغربی افریقی ملکوں کی اقتصادی تنظیم ’اکواس‘ کی قیادت کوصہیونی ریاست کی طرف سے ایک ارب ڈالر سالانہ کی تجارت کے مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے افریقی ملکوں کو یقین دلایا ہے کہ اسرائیل اکواس کے رکن ملکوں میں سبز انرجی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں بھرپور تعاون فراہم کرے گا۔

اس کے مقابلے میں افریقی ممالک فلسطینی تحریک مزاحمت کو’دہشت گردی‘ سے جوڑنے کی کوشش کریں گے۔ مغربی افریقی ملکوں میں گذشتہ کچھ عرصے سے مسلح تنظیمیں ظہور پذیر ہوتی رہی ہیں۔ اسرائیل نے ان ملکوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ ان تنظیموں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست دراصل عرب، اسرائیل کشمکش کو ختم کرنے میں افریقی سیاسی قیادت کی کمزوری سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ صہیونی ریاست کو افریقی ملکوں میں اپنے اثرو نفوذ کے لیے مغربی ذرائع ابلاغ کی شکل میں ایک ہتھیار بھی حاصل ہے جو صہیونی ریاست کے ایک خادم کے طور پر سرگرم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مغربی اور اسرائیلی میڈیا مل کر افریقی ملکوں کو ترکی اور ایران کے بڑھتے اثرو نفوذ کا خوف دلا کرانہیں بلیک میل کرنے کی پالیسی پر بھی عمل پیرا ہے۔

افریقی ملکوں سے تال میل بڑھانے کے اسرائیلی مقاصد میں سے ایک اہم مقصد عالمی اداروں میں ان ملکوں کی اسرائیل کے لیے حمایت کا حصول ہے۔ خاص طور پر جب افریقی ملک سینیگال نے سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی جس میں فلسطین میں صہیونی آباد کاری کو جرم قرار دیا گیا۔ اسرائیل کے لیے یہ افریقی ملکوں کی طرف سے ایک زور دار طمانچہ تھا۔

افریقی یونین پر عرب ممالک کے اثرات کم کرنا بھی اسرائیلی ریاست کے مذموم مقاصد میں سے ایک ہے۔ صہیونی ریاست  اپنی قومی سلامتی کی آڑ میں عرب ممالک کا افریقی ملکوں کے ساتھ مل کر گھیراؤ کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح اسرائیل بحر احمر کو ایک چھوٹے سے عرب بحیرے میں تبدیل کرتے ہوئے اس کا تزویراتی محاصرہ کرنا چاہتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افریقی منڈیوں میں بیرونی مصنوعات کی بڑھتی طلب کے پیش نظر صہیونی ریاست دو طرفہ تجارتی حجم میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ فی الوقت اسرائیل کو اس میدان میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی، تاہم اکتوبر میں ہونے والی مغربی افریقی ملکوں کی کانفرنس میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔ سال 2016ء کے دوران براعظم افریقا کے لیے اسرائیلی برآمدات کے حجم میں صرف 6 فی صد اضافہ ہوا۔

شرکاء کون کون؟

اسرائیل اور افریقی ملکوں کی سربراہ کانفرنس میں 14 افریقی ملکوں کے سربراہان، مندوبین اور سینیر حکومتی عہدیداروں کے ساتھ ساتھ کاروباری شخصیات، فیصلہ ساز ادارے،  دفاعی ماہرین اور دونوں طرف کی این جی اوز شرکت کریں گی۔

ٹوگو کے وزیرخارجہ نے چند افریقی ملکوں کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینے پر خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کانفرنس محض مغربی افریقی ملکوں کہ اجارہ داری نہیں بلکہ تمام افریقی ملکوں کی نمائندہ ہونی چاہیے۔

افریقی ملکوں سے تعلقات پھولوں کی سیج نہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اگرچہ افریقی ملکوں میں اپنے مذموم عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہے، مگر یہ کوئی اتنا آسان کام نہیں۔ مغربی افریقا کے بہت سے ممالک نظریاتی طور پر اسرائیل کو پسند نہیں کرتے۔ اس ضمن میں پانچ اہم عوامل افریقی ملکوں اور اسرائیل کے درمیان تعلقات پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

عرب ممالک کی مخالفت

فی الوقت عرب ممالک اندرونی خلفشار کا شکار ہیں تاہم اس کے باوجود اسرائیل اور افریقی ملکوں کے درمیان تعلقات پر اثرانداز ہونے والے عوامل میں عرب ممالک ایک کلیدی عامل ہے۔

حال ہی میں عرب لیگ کا ایک غیر معمولی اجلاس ہوا جس میں اسرائیلی ریاست کی افریقی ملکوں میں مسئلہ فلسطین کی قیمت پر دراندازی کا جائزہ لیا گیا۔

عرب لیگ کے اجلاس میں افریقی عرب ملک الجزائر نے اپنا پلان پیش کیا جس میں کہا گیا کہ اسرائیل فلسطین کی قیمت پر افریقی ملکوں کے ساتھ راہ و رسم بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ عرب لیگ کے اجلاس میں افریقا کے عرب اور غیر ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے اور انہیں قضیہ فلسطین کے ساتھ اپنی وابستگی برقرار رکھنے پر قائل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

ترکی کی خوہشات

افریقی ممالک میں اپنے تجارتی اور تزویراتی مقاصد کے فروغ میں ترکی بھی پیش پیش ہے۔ حالیہ صدی کے دوران اگر کسی ملک نے مغربی اور اور مشرقی افریقی ملکوں میں غیرمعمولی تجارتی راستے کھولے ہیں تو اس کا سہرا ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے سرجاتا ہے۔ انہوں نے جون 2017ء کو مشرقی افریقی ملکوں کا طویل دورہ کیا۔ اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے افریقی ملکوں سے کئی بڑے تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے کیے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ مشرقی افریقی ملکوں کی قیادت طیب ایردوآن کی شخصیت کی گرویدہ ہوگئی ہے۔

اقتصادی میدان میں افریقی ملکوں کے ساتھ سنہ 2002ء میں ترکی کا تجارتی حجم 3 ارب ڈالر تھا۔ اس کے بعد گذشتہ ڈیڑھ عشرے کے دوران ترکی کا ان ملکوں میں مجموعی تجارتی حجم 67 ارب ڈالر کو پہنچ گیا جب کہ سالانہ یہ حجم چھ ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔

ترکی کے افریقی ملکوں کے ساتھ تجارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ دفاعی معاہدے بھی ہیں۔ ترکی نے صومالیہ میں اپنا پہلا فوجی اڈہ قائم کیا۔ اس کے علاوہ ترکی کے ادارے افریقی ملکوں میں فتح اللہ گولن کے اقتصادی، سماجی اور دیگر منصوبوں کو روکنے کے لیے بھی سرگرم ہیں۔

ایران کی موجودگی

افریقی ملکوں میں جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کے دوڑ میں ایران کا بھی اہم کردار ہے۔ ایران نے ان ملکوں کو ٹیکنالوجی، توانائی، تیل کی تلاش اور اس کی نکاسی، پیٹرو، کیمیکل اور گیس منصوبوں میں سرمایہ کاری، زراعت، صحت، ڈیموں کی تعمیر، آب پاشی میں تعاون کے ساتھ ساتھ ایران نے افریقی ملکوں کو عالمی منڈی کی نسبت سستا تیل فراہم کیا۔

مغربی افریقی ملکوں کے ساتھ صہیونی ریاست کے دفاعی اور تجارتی تعلقات مسئلہ فلسطین کے پہلو سے انتہائی خطرناک ہوسکتے۔ صہیونی ریاست فلسطینی کاز کی قیمت پر افریقی ملکوں کو اپنے چنگل میں پھنسانے کے لیے سرگرم ہے۔ اسرائیل سے معاہدے کرنے والے افریقی ملکوں کی طرف سے فلسطینی قوم کے حق خود ارادیت کی حمایت پر مبنی پالیسیاں خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔ اسرائیل عالمی فورمز پر افریقی ملکوں کو اپنی حمایت کے لیے استعمال کرے گا۔

Tags: americafacebookgamesgazagoogleisraelisraelijerusalemkillerlondonMatrixnebluspalestineparisramallahThirdIntifadatrumpUnitedForPalestinewashingtonwestbankyoutubezionistzombieفلسطین کی قیمت پرافریقی ملکوں سے اتحاد کی صہیونی کوشش!
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.