فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق تل ابیب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حماس نے ان کے بیٹے کو یرغمال بنا کر پورے خاندان کی خوشیاں چھین لیÂ ہیں مگر وزیراعظم نیتن یاھو ان کے بیٹے کو رہائی دلانے میں ناکام رہے ہیں۔ سمحا گولڈن نے کہا کہ ھدار گولڈن کو غزہ کی پٹی کے محاذ جنگ پر بھیجنے کے ذمہ دار نتین یاھو اور ان کی حکومت ہے۔
مغوی فوجی کے والد نے اسرائیلی وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاھو حریدیم مذہبی گروہ کے افراد کو جبری بھرتی کرنے کی کوششیں کررہے ہیں مگروہ نہیں جانتے کہ محاذ جنگ پر ان کے بیٹوں کو بھیجنے کے کیا نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
سمحا گولڈن نے کہا کہ وزیراعظم نیتن یاھو اور حکومت یہودیوں کو فوج میں بھرتی کرنے کے لیے قانون سازی کررہی ہے مگر وہ غزہ کی پٹی میں یرغمال فوجیوں کو بازیاب کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔
