رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان غزہ کی سرنگوں کو ختم کرنے کے لیے باہمی تعاون کا اعلان اس خطرے کے تدارک کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ اس کے نتیجے میں غزہ میں فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے کھودی گئی سرنگوں کومسمار کرنے کا ایک بڑا موقع ملے گا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے غزہ میں سرنگوں سے نمٹنے کے لیے زیرزمین آئرن ڈوم سسٹم نصب کرنے کا بھی پلان تیار کیا ہے۔ اس کےعلاوہ سرنگوں کی نشاندہی اور انہیں تباہ کرنے کے لیے امریکی انٹیلی جنس اداروں کے ماہرین بھی اپنی خدمات اسرائیل کو مہیا کریں گے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ امریکا نے سنہ 2016 ء کے دوران اسرائیل کو درپیش سرنگوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے 40 ملین ڈالر کی رقم مختص کی ہے۔ اگلے دو برسوں سنہ 2017 ء اور سنہ 2018 ء کے دوران بھی امریکا اسرائیل کو سالانہ اتنی ہی رقم ادا کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان غزہ کی سرنگوں سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کے اعلان میں واشنگٹن کی جانب سے تل ابیب کو جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ آئرن ڈوم کی بیٹریاں اپ گریڈ کرنے والی امریکا۔ اسرائیل کی مشترکہ فرموں کو امداد فراہم کرنا بھی شامل ہے۔
’’رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج جلد ہی غزہ کی پٹی کی سرحد پربنائی گئی باڑ کے ساتھ ساتھ جدید سینسر نصب کرے گا جو غزہ میں حماس کے جنگجوؤں کی جانب سے کھودی گئی زیرزمین سرنگوں کی نشاندہی کے ساتھ زیرزمین ہونے والی کسی بھی قسم کی نقل وحرکت کا پتا چلانے میں مدد دے گا۔
