قاہرہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) بین الاقوامی پولیس ’انٹرپول‘ نے سرکردہ عالم دین الشیخ یوسف القرضاوی کا نام بین الاقوامی اشتہاریوں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مصر نے انٹرپول سے اس اقدام کی وضاحت طلب کی ہے کیونکہ القرضاوی پر قتل، دہشت گردی ، جلاؤ گھیراؤ اور مصر کی قومی املاک کی توڑپھوڑ جیسے سنگین الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ مصر کے انہی الزامات کے بعد القرضاوی کا نام بین الاقوامی اشتہاریوں کی’ ریڈ لسٹ‘میں شامل کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق انٹرپول نے علامہ یوسف القرضاوی کا نام بین الاقوامی اشتہاریوں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔ اس پر مصری حکام نے انٹرپول سے کہا ہے کہ وہ ریڈ لسٹ میں شامل اشتہاری کا نام خارج کرنے کی وضاحت کرے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انٹرپول کی ویب سائیٹ پر موجود اشتہاریوں میں الشیخ یوسف القرضاوی کا نام ’سرخ‘ نشان سے ظاہر ہونے والے ناموں میں شامل تھا مگر اب ان کا نام اس فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ انٹرپول نے طویل مراسلت اور بات چیت کے بعد مصر کی طرف سے علامہ یوسف القرضاوی کو اشتہاری قرار دینے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔
انٹرپول کو معلوم ہوا ہے کہ مصری حکومت کی طرف سے علامہ یوسف القرضاوی کے خلاف جتنے بھی الزامات عائد کیے گئے ان کا پس منظر محض سیاسی تھا۔
انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ انٹرپول کی ویب سائیٹ پر شیخ یوسف القرضاوی کا نام لوٹ مار کرنے، جلاؤ گھیرا اور قتل جیسے جرائم میں ملوث عناصر میں شامل تھا مگر تحقیقات کے بعد انٹرپول اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ مذکورہ تمام الزامات ان کی شخصیت کا حصہ نہیں ہوسکتے۔ وہ مصر میں موجود ہی نہیں تووہاں پر لوٹ مار، قتل وغارت گری یا جلاؤ گھیراؤ میں ملوث کیسے ہوسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ انٹرپول نے مصری حکومت کے مطالبے پر ممتاز عالم دین الشیخ یوس القرضاوی کو اشتہاری قرار دیا تھا۔
الشیخ یوسف القرضاوی مصری ہیں مگران کے پاس قطر کی شہریت بھی ہے۔ وہ طویل عرصے سے قطر ہی میں مقیم ہیں۔
