عمان (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے کہا ہے کہ ان کا ملک دوسرے عرب اور مسلمان ملکوں کےساتھ مل کر تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل اور القدس کو فلسطینی مملکت کا دارالحکومت بنانے کی مساعی جاری رکھے گا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ان خیالات کا اظہار شاہ عبداللہ نے ہفتے کے روز چھ عرب ممالک کے وزراء خارجہ اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط پرمشتمل ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قراردیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔
شاہ عبداللہ دوم نے بیت المقدس کی آئینی، تاریخی اور اسلامی شناخت برقرار رکھنے کے لیے تمام عرب ممالک کے موقف میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور القدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کے لیے کوششیں مجتمع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو ان کے حق خود ارادیت دیے جانے تک خطے میں دیر پا، دائمی اور عادلانہ نظام قائم نہیں ہوسکتا۔ اسرائیل اور امریکا سمیت فلسطینیوں کے حقوق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ شاہ عبداللہ نے کہا کہ اردن کی حکومت القدس کے حوالے سے اپنی اخلاقی، سیاسی اور دینی ذمہ داریوں کی انجام دہی جاری رکھے گی۔
قبل ازیں عمان میں چھ عرب ممالک کے وزراء خارجہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کی صدارت عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اردنی وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے کہا کہ فلسطین، اسرائیل تنازع کا واحد اور پرامن حل دو ریاستی فارمولے پرعمل درآمد اور القدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنائے جانے میں مضمر ہے۔
الصفدی نے کہا کہ اردن بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا امریکی اعلان یکسر مستردکرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عرب لیگ بیت المقدس کو فلسطینی مملکت کا دارالحکومت تسلیم کرانے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔ جب تک دو ریاستی حل کےفارمولے پرعمل درآمد نہیں کیا جاتا تب تک امن کا قیام ممکن نہیں۔
اس موقع پر عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیظ نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے حوالے سے منظور کی گئی قراردادوں پرعمل درآمد یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز عمان میں عرب لیگ کے چھ رکن ممالک کے وزراء خارجہ کا اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اردن، فلسطین، سعودی عرب، مصر، امارات اور مراکش کےوزراء خارجہ کےساتھ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے بھی خطاب کیا۔
