مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے صہیونی ریاست کے اندر بسنے والے عرب فلسطینیوں کو اسرائیل کی قومی اقلیت قرار دینے اورعربی زبان کو اسرائیل قومی زبانوں میں شامل کرنے کے مطالبے پرمبنی مسودہ قانون مسترد کر دیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ کے عرب رُکن پارلیمنٹ جمال زحالقہ نے یہ مسودہ قانون پیش کیا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ پارلیمنٹ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بسنے والے عرب آبادی کو قومی اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس مسودہ قانون میں سفارش کی گئی تھی کہ عرب زبان کو صہیونی ریاست کے اندرونی علاقوں میں بولی جانے والی قومی زبان کا درجہ دیاجائے۔ مرگر صہیونی پارلیمنٹ کی اکثریت نے عرب آبادی کو قومی اقلیت اور عرب زبان کو مروجہ مقامی زبان قرار دینے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔پارلیمنٹ سے مطالبہ مسترد ہونے کے بعد جمال زحالقہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کنیسٹ میں جو مطالبات پیش کیےتھے وہ جمہوری اقدار، مساوات اور بنیادی انسانی حقوق کی روشنی میں شامل کیے گئے تھے مگرصہیونی پارلیمنٹ کے انتہا پسندوں کی طرف سے عرب آبادی کو مساوی حقوق کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔
اس موقع پر اسرائیلی وزیر قانون وانصاف ایلیٹ شاکید نے جمال زحالقہ کی طرف سے پیش کردہ مسودہ قانون کی پارلیمنٹ میں مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم عرب آبادی کو اسرائیل کے مساوی قومی حقوق کسی صورت میں نہیں دے سکتے ہیں۔ عرب قوم کو مساوی حقوق چاہئیں تو وہ عرب ملکوں کو چلے جائیں۔
