عبرانی اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مغربی کنارے میں کاسمیٹک مصنوعات تیار کرنے والی ایک بڑی کمپنی نے اپنے تمام کارخانے غرب اردن سے فلسطین کے سنہ 1948 ء کے علاقوں میں منتقل کرنا شروع کردیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کاسمیٹک کمپنی’’اھافاہ‘‘ نےمغربی کنارے میں ’’متسبیہ شالوم‘‘ کالونی سے اپنے کارخانے اور مشینری اندرون فلسطین کے سنہ 1948 ء کے ’’عین جدی‘‘ نامی علاقے میں منتقل کرنا شروع کردیے ہیں۔
اسرائیلی اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جب سے یورپی منڈیوں میں اسرائیل کی مصنوعات پر متنازع کا ٹیگ لگنا شروع ہوا ہے صہیونی مصنوعات کی خریداری ختم ہو کر رہ گئی ہے جس کے نتیجے میں غرب اردن میں قائم یہودی کمپنیوں کو اپنے کارخانے اندرون فلسطین منتقل کرنا پڑے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق برطانیہ سمیت بعض یورپی ملکوں میں اسرائیلی کارخانوں کو وہاں جاری بائیکاٹ تحریک کے نتیجے میں بند بھی ہونا پڑا ہے۔
خیال رہے کہ B.D S کے نام سے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی تحریک گذشتہ کئی ماہ سے یورپ سمیت کئی دوسرے ملکوں میں جاری ہے۔ اس تحریک کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں۔
