اسرائیل کے عبرانی ریڈیو نے اپنی رپورٹ میں فلسطینی اتھارٹی کے ایک سینیر عہدیدار کا بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات میں فلسطینی حکام کی طرف سے یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ اسرائیلی فوج مغربی کنارے کے سیکٹر A میں اپنی سرگرمیاں محدود کرے تاہم اسرائیلی خفیہ ادارے’’شاباک‘‘ نے فلسطینی حکام کی تجویز مسترد کردی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’شاباک‘‘ کے ڈائریکٹر سیکیورٹی جنرل نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو، وزیر دفاع موشے یعلون اور فوج کے سینیر عہدیداروں کو ایک خفیہ دستاویز فراہم کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے کے بعض شہروں میں اسرائیلی فوج کی تعداد یا ان کی سرگرمیوں میں کمی اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرناک ہوسکتی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی اخبارات نے یہ انکشاف کیا تھاکہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی فوج کے درمیان پچھلے دو ماہ سے خفیہ مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں۔ ان مذاکرات میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ اسرائیلی فوج غرب اردن کے سیکٹر A میں آنے والے شہروں اور قصبوں میں اپنی سرگرمیاں محدود کرے تاہم اسرائیلی سیکیورٹی ادارے اس تجویز سے متفق نہیں ہیں۔
غرب اردن کاسیکٹر A سنہ 1994 ء میں طے پائے اوسلو معاہدے کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے زیرکنٹرول علاقوں میں شامل کیا گیا تھا تاہم سنہ 2002 ء میں اسرائیلی فوج نے اس سیکٹرمیں بھی اپنی فوجیں داخل کردی تھیں اور آج تک اسرائیلی فوج وہاں سے واپس نہیں نکلی ہے۔
