• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

صہیونی فوج نے غرب اردن میں اختیارات محدود کرنے کی فلسطینی تجویز مسترد کردی

منگل 19-04-2016
in عالمی خبریں
0
0Pala1055
0
SHARES
0
VIEWS

(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ روز فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی حکام اور اسرائیلی فوج کے نمائندوں کے درمیان پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے خفیہ مذاکرات بغیر کسیے نتیجے کے ختم ہوگئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے’’شاباک‘‘ نے فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے غرب اردن کے سیکٹر ’’ A ‘‘ میں اسرائیلی فوج کی تعداد اور اختیارات محدود کرنے اور فلسطینی ملیشیا کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے کی تجویز مسترد کردی ہے۔

اسرائیل کے عبرانی ریڈیو نے اپنی رپورٹ میں فلسطینی اتھارٹی کے ایک سینیر عہدیدار کا بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات میں فلسطینی حکام کی طرف سے یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ اسرائیلی فوج مغربی کنارے کے سیکٹر A میں اپنی سرگرمیاں محدود کرے تاہم اسرائیلی خفیہ ادارے’’شاباک‘‘ نے فلسطینی حکام کی تجویز مسترد کردی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’شاباک‘‘ کے ڈائریکٹر سیکیورٹی جنرل نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو، وزیر دفاع موشے یعلون اور فوج کے سینیر عہدیداروں کو ایک خفیہ دستاویز فراہم کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے کے بعض شہروں میں اسرائیلی فوج کی تعداد یا ان کی سرگرمیوں میں کمی اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرناک ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی اخبارات نے یہ انکشاف کیا تھاکہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی فوج کے درمیان پچھلے دو ماہ سے خفیہ مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں۔ ان مذاکرات میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ اسرائیلی فوج غرب اردن کے سیکٹر A میں آنے والے شہروں اور قصبوں میں اپنی سرگرمیاں محدود کرے تاہم اسرائیلی سیکیورٹی ادارے اس تجویز سے متفق نہیں ہیں۔

غرب اردن کاسیکٹر A سنہ 1994 ء میں طے پائے اوسلو معاہدے کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے زیرکنٹرول علاقوں میں شامل کیا گیا تھا تاہم سنہ 2002 ء میں اسرائیلی فوج نے اس سیکٹرمیں بھی اپنی فوجیں داخل کردی تھیں اور آج تک اسرائیلی فوج وہاں سے واپس نہیں نکلی ہے۔

Tags: israelipalestineThirdIntifadaUnitedForPalestineصہیونی فوج نے غرب اردن میں اختیارات محدود کرنے کی فلسطینی تجویز مسترد کردی
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.