قاہرہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) مصر کے سابق صدر حسنی مبارک ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں کی سختی سے تردید ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حسنی مبارک نے فلسطینیوں کو جزیرہ سیناء میں آباد کرنے کی تجویز دی تھی۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں حسنی مبارک کا کہنا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ ایک جعلی تجویز ان کے نام منسوب کی گئی۔ انہوں نے فلسطینیوں کو جزیرہ سیناء میں آباد کرنے کی کوئی تجویز پیش نہیں کی۔حسنی مبارک کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں آبادی کا بوجھ کم کرنے کے لیے یہ تجویز اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے پیش کی تھی۔
سابق مصری صدر کا کہنا ہے کہ نیتن یاھو ان سے ملنے آئے۔ ان کے پاس ایک نقشہ تھا اور ساتھ ہی یہ تجویز تھی کہ مصر غزہ کی پٹی میں آبادی کا بوجھ کم کرنے کے لیے جزیرہ نما سیناء کے کچھ حصے پر فلسطینیوں کو آباد کاری کی اجازت دے۔
ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاھو جس علاقے میں فلسطینیوں کو آباد کرنا چاہتے تھے وہ جزیرہ نما سیناء میں واقع ہے۔ انہوں نے نیتن یاھو کی تجویز کے جواب میں صاف صاف الفاظ میں کہا کہ ’یہ ناممکن ہے۔ ہم نے اس زمین کے حصول کے لیے جنگ لڑی۔ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بہت مشکل اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک نئی جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔ اس پر نیتن یاھو نے کہا ’نہیں، نہیں نہیں، ہم آپس میں کوئی نیا محاذ نہیں کھولنا چاہتے‘۔
حسنی مبارک کا کہنا ہے کہ نیتن یاھو کو صاف جواب دیتے ہوئے انہیں کہہ دیا کہ وہ دوبارہ ایسی کسی تجویز پربحث نہ کریں۔ جزیرہ سیناء میری ذاتی ملکیت نہیں۔ فلسطینی قوم بھی اس پر کوئی افراط و تفریط نہیں کرسکتی۔ یہ آنے والی نسلوں کا حق ہے‘۔
