رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم کے نیویارک میں قائم صدر دفتر سے جاری ہونے والے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی سرپرستی میں مغربی کنارے کے شہروں میں یہودی توسیع پسندی میں سرگرم تنظیمیں ،تجارتی اور تعمیراتی کمپنیاں فلسطینی قومی املاک اور وسائل کو لوٹ رہی ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے ان صہیونی اداروں اور تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی املاک کی لوٹ مار کا سلسلہ بند کریں اور انسانی حقوق کی پامالیاں بند کرائیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تجارتی اور تعمیراتی کمپنیوں کا مغربی کنارے کے علاقوں میں کسی بھی متنازع سرگرمی میں حصہ لینا خلاف قانون ہے۔ عالمی سطح پر ایسے کسی بھی اقدام کی حمایت نہیں کی جاسکتی جو فلسطینیوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کا موجب بن رہا ہو۔
ہیومن رائنٹس واچ کی کمرشل سرگرمیوں اور انسانی حقوق کے شعبے کے ڈائریکٹر اروینڈ گنیسن کا ایک بیان نقل کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطین میں انسانی حقوق کےاداروں کی اہم ترین ذمہ داریوں میں صرف امداد فراہم کرنا ہی نہیں بلکہ یہودی توسیع پسندی کی سرگرمیوں کی روک تھام کو لگام دینا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
خیال رہے کہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں میں نصف ملین سے زیادہ یہودی غیرقانونی طورپرآباد ہیں۔ ان یہودیوں کو بسانے کے لیے 237 یہودی کالونیاں قائم کی گئی ہیں۔ ان کالونیوں میں تجارتی اور کاروباری شعبے میں سرگرم یہودی تنظیمیں اور کمپنیاں فلسطینیوں کے وسائل کو یہودیوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
